Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کا حکم

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4201-WAT
Issued
05 ربیع الاول 1447ھ /30 اگست 2025ء

Question

تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ابو کے بھائی کی بیٹی کی بیٹی یعنی تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح جائز ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

جی ہاں ! ابو کے بھائی کی بیٹی کی بیٹی ، یعنی تایا زاد بہن کی بیٹی سے نکاح شرعاً جائز ہے ، بشر طیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً رضاعت وغیرہ نہ ہو ۔ کیونکہ وہ ان عورتوں میں سے نہیں جو محرم ہیں ، جب تایا زاد بہن سے نکاح ہو سکتا ہے تو اس کی بیٹی سے بدرجہ اولی ہو سکتا ہے ۔ اللہ پاک نے محرمات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : (وَ أُحِلَّ لَكُمْ ما وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ) ترجمہ کنز الایمان : ان کے سوا جور ہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.