Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچے کا نام اشہر رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4191-WAT
- Issued
- 03 ربیع الاول 1447ھ / 28 اگست 2025ء
Question
کیا بچے کا نام " اشہر " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بچے کا نام اشہر رکھنا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
شہر " ہاء کے زبر کے ساتھ ، اسم تفضیل کا صیغہ ہے، جس کا معنیٰ ہے : زیادہ مشہور و معروف ۔ " یہ نام رکھنا جائز و درست ہے ۔ تاہم ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، پھر پکارنے کے لئے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحا بہ کرام علیہم الرضوان یا اولیا وصالحین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے ، کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، اور اس سے امید ہے کہ نیک لوگوں کی برکتیں بچے کو نصیب ہوں گی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.