Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شادی کے لیے سودی قرض لے سکتے ہیں؟

Question

شادی کے لیے سودی قرض لینے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) پرائیویٹ بینک سے جولون ملتا ہے ، وہ ایک لاکھ کے بدلے ایک لاکھ بیس ہزار لیتے ہیں، مجبوری کے وقت وہ لون لینا جائز ہے یا ناجائز ؟ میری بہن کی شادی ہے ۔ جواب

Answer (beginning)

سودی قرض لینے سے متعلق شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ بینک یا کسی بھی ادارے سے یوں قرض لینا کہ جتنا لیا ہے اس سے زائد اگر چہ ایک پیسا اوپر دینا طے پائے یہ سود اور حرام ہے اور بلا عذر شرعی سود پر قرض لینا سخت ناجائز و حرام ہے اور شادی کوئی شرعی مجبوری نہیں ہے ۔ لہذا شادی کے لیے سودی قرض لینا جائز نہیں ہے ، پس یا تو یہ کوشش کی جائے کہ کسی سے بغیر سود کے قرضہ مل جائے یا پھر اگر آپ کے پاس حاجت سے زائد کوئی چیز ہے تو اس کو بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لیں اور اگر ان میں سے کچھ بھی نہیں ہو سکتا تو سادگی کے ساتھ شادی کی جائے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.