Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
لوہے کی تار پاک کرنے کا طریقہ
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4188-WAT
- Issued
- 14 ربیع الاول 1447ھ / 08 ستمبر 2025ء
Question
لوہے کی مار نا پاک ہو جائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) تارجس پر کپڑے سکھائے جاتے ہیں وہ لوہے کی ہے ۔ اگر وہ ناپاک ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کا کیا طریقہ کا رہے ؟ جواب
Answer (beginning)
لوہے کی تارا گر زنگ آلود بھی نہ ہو اور نہ اس پر نقش و نگار ہوں تو اچھی طرح پونچھ ڈالنے سے بھی پاک ہو جاتی ہے ، دھونے کی ضرورت نہیں ۔ اور اگر زنگ آلود ہو یا اس پر نقش و نگار ہوں تو ایسی صورت میں بغیر دھوئے پاک نہ ہوگی۔ فتاوی عالمگیری میں ہے إذا وقع على الحديد الصقيل الغير الخشن كالسيف والسكين والمرآة ونحوها نجاسة من غير أن يموه بها فكما يطهر بالغسل يطهر بالمسح بخرقة طاهرة. هكذا في المحيط ولا فرق بين الرطب واليابس ولا بين ماله جرم ومالا جرم له. كذا في التبيين وهو المختار للفتوى. كذا فى العناية ولو كان خشنا أو منقوشالا يطهر بالمسح.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.