Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سلام پھیرتے وقت اللہ اکبر کہنے کا حکم؟

Fatwa no.
4182-WAT
Issued
09 ربیع الاول 1447ھ / 03 ستمبر 2025ء

Question

دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) نماز میں سلام پھیرنے کے لیے غلطی سے سلام کے الفاظ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دیا پھر فوراً یاد آنے پر دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے سلام کے الفاظ کہہ لیے تو کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

صورت مسئولہ میں سلام کے الفاظ کے بجائے اللہ اکبر کہہ دینے سے نماز فاسد نہیں ہوئی کہ یہ ذکر ہے اور نماز میں اللہ پاک کا ذکر بطور جواب نہ ہو، تو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی ۔ ذکر اللہ کے بطور جواب ہونے سے مراد یہ ہے کہ نمازی نماز میں کسی شخص سے مخاطب ہو کر بطور جواب اللہ کا ذکر کرے ، مثلا کوئی چھینک مارے ، تو بطور جواب پر حمک اللہ کہے اور اگر خطاب کے بغیر خود ہی ذکر اللہ کرے ، تو یہ ذکر مفسد نماز نہیں جیسے کوئی نماز میں چھینکنے کے بعد خود ہی الحمد للہ یا یر حمک اللہ کہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.