Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گونگا شخص نماز کیسے پڑھے؟
Question
گونگے انسان کے نماز ادا کرنے کا طریقہ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میری بہن کچھ باتوں کو بہلکا ہلکا سمجھ لیتی ہیں، لیکن وہ بول نہیں سکتیں ۔ بولنے میں بھی وقت ہے ، اور باتوں کو سمجھنے میں بھی مشکل ہوتی ہے ۔ تو ایسی صورت میں جب وہ زبان سے کچھ نہیں پڑھ سکتیں، تو ان کے لیے نماز ادا کرنے کا کیا شرعی جواب ہے ؟
Answer (beginning)
شریعت کے احکام کے مکلف ہونے کی بنیاد عقل اور بلوغت پر ہے ، نہ کہ جسمانی صحت پر ۔ لہذا اگر کوئی شخص عاقل و بالغ ہے ، لیکن اندھا، بہرایا گونگا ہے ، تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق شریعت کے احکام کا مکلف ہے ۔ اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا ۔ جس قدر وہ شخص طاقت رکھتا ہے ، اسی حد تک اس پر عمل کرناضروری ہے ۔ لہذا گونگا نماز کے تمام افعال (جیسے قیام، رکوع، قومہ ، سجدہ ، قعدہ) ویسے ہی ادا کرے گا جیسے عام مسلمان کرتے ہیں ۔ اور تلاوت ، تکبیرات اور دُعائیں چونکہ وہ زبان سے نہیں پڑھ سکتا، اس لیے وہ دل میں ارادہ کرے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.