Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بارش کا پانی اور نالی کا پانی مکس ہوجائے تو اس پانی کا حکم

Answered by
مولانا محمد سعید عطاری مدنی
Fatwa no.
4176-WAT
Issued
14 صفر المظفر 09/21447 اگست 2025. دار الافتا اهلسنت

Question

بارش کا پانی اور نالی کا پانی مکس ہو جائے تو اس پانی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بارش کا پانی اور نالی کا گندا پانی ملا ہوا ہے کوئی بو وغیرہ نہیں آرہی، نہ ہی کوئی نجاست ہے ، نالی اور بارش کے ایسے پانی میں کپڑے بھیگیے گئے ہیں، تو اس کا کیا حکم ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

جس وقت بارش ہو رہی ہے اور وہ پانی بہہ رہا ہے تو وہ جاری پانی ہے ، اور وہ ہر گز تا پاک نہیں ہو سکتا جب تک نجاست کی کوئی صفت ( مثلا رنگ یا بو ) اس میں ظاہر نہ ہو، لہذا اس جاری ہونے کی حالت میں وہ کپڑوں کو لگے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے ۔ اور اگر اس میں نجاست کی کوئی صفت تھی تو وہ پانی ناپاک ہے اور وہ کپڑوں کو لگا تو کپڑے کے اس حصے کو نا پاک کر دے گا ۔ اور اگر بارش رک گئی اور پانی ٹھہر گیا ، اب اس مکس پانی میں نجاست کا کوئی جزء ظاہر ہے (اور پانی دہ دردہ سے کم ہے ) یا نالی کے پیٹ میں نجاست کی رنگت یا بو تھی اور بارش اتنی نہ ہوئی کہ اسے بالکل صاف کر دیتی ، بارش رکنے کے بعد نجاست کا رنگ یا بوا بھی…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.