Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سودی ایگریمنٹ کے تحت خریداری کا حکم؟

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4174-WAT

Question

سودی ایگریمنٹ کے تحت خریداری کرنا کیسا جبکہ معلوم ہو کہ سود نہیں دینا پڑے گا دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) قسطوں پر چیز خریدنے میں اگر 3 مہینوں کے اند ر ادائیگی کی جائے تو 0 بلا سود ہوگا۔ اگر 3 مہینوں کے امیر رادائیگی نہ کی جائے تو سود لگایا جائے گا ۔ میں 10,000 کی رقم ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں اور 3 مہینوں میں مکمل ادائیگی کر سکتا ہوں، تو کیا مجھے قسطوں پر چیز میں خریدنے کی اجازت ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اگر خریداری میں یہ شرط ہوتی ہے کہ 3 مہینے میں ادائیگی مکمل نہ کرنے کی صورت میں خریدار اضافی رقم یعنی سود پے کرے گا، تو ایسا سودا یعنی خرید و فروخت جائز نہیں ہے ، چاہے خریدار کو یہ اطمینان ہو کہ میں 3 مہینے میں ادائیگی کر دوں گا اور سود دینے کی نوبت نہیں آئے گی ، تب بھی یہ سودا نا جائز ہی رہے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی شرط کے ساتھ سودا ہونے میں سودی معاہدہ پایا جاتاہے، کیونکہ خریدار کمپنی یا دکاندار سے یہ معاہدہ کرتا ہے کہ اگر ادائیگی میں تاخیر ہوئی ، تو میں سود ادا کروں گا اور اس معاہدے کے ساتھ ہی کمپنی اسے اپنی چیز بیچتی ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.