Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نماز میں جمائی لینے کا حکم
- Fatwa no.
- 4171-WAT
- Issued
- 08 ربیع الاول 1447ھ /02 ستمبر 2025ء
Question
نماز میں جماہی لینا کیسا ہے ؟ جواب نماز میں جماہی لینے کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
نماز میں بالقصد جماہی لینا مکروہ تحریمی ہے اور خود آجائے ، تو اس میں حرج نہیں، مگر روکنا مستحب ہے اور اگر روکے سے نہ رکے تو ہونٹ کو دانتوں سے دبائے اور اس طرح بھی نہ رکے تو (قیام کی حالت میں) داہنا یا ( دوسرے مواقع پر) بایاں ہاتھ مونھ پر رکھ دے یا آستین سے مونھ چھپالے ، قیام میں دہنے ہاتھ سے ڈھانکے اور دوسرے موقع پر بائیں سے ۔ جماہی روکنے کا مجرب طریقہ یہ ہے کہ دل میں خیال کرے کہ انبیاء علیہم السلام کو جماہی نہیں آتی تھی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.