Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
باسل نام رکھنا کیسا؟ اور باسل نام کا مطلب
- Answered by
- مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4165-WAT
- Issued
- 02 ربیع الاول 1447ء 27 اگست 2025
Question
کیا بچے کا نام " باسل " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بچے کا نام باسل رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
"باسل" کا معنی ہے "جری ، بہادر ۔ پس معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے۔ تاہم ! بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف محمد رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، پھر پکارنے کے لئے انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام یا صحابہ کرام علیہم الرضوان یا اولیا وصالحین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر نام رکھا جائے، کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، اور اس سے امید ہے کہ نیک لوگوں کی برکتیں بچے کو نصیب ہوں گی ۔ القاموس الوحید میں ہے "الباسل : جری، بہادر ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.