Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
دورانِ نماز منہ میں بننے والا تھوک نگلنا
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4160-WAT
- Issued
- 27 صفر المظفر 1447ء 22 اگست 2025. دار الافتاء الهالات
Question
دورانِ نمازمنہ میں بننے والا تھوک نگلنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دوران نماز منہ میں بننے والا تھوک نگل سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
دوران نمازا اپنے ہی منہ میں تھوک بن گیا اور اسے نگل لیا، تو نماز ہو جائے گی، کیونکہ یہ تھوک باہر سے منہ میں نہیں آیا بلکہ منہ کے اندر ہی پیدا ہوا ہے ، اسی وجہ سے اس سے روزہ بھی نہیں ٹوٹتا۔ فتح باب العنایۃ میں ہے "وفي المحيط: ولو ابتلع شيئ بين أسنانه لا تفسد صلاته إن كان (أقل من) قدرِ جمصة، لأنه ليس بعمل كثير، ولعشر الاحتراز عنه ولصيرورته كريق فمه في عدم الإفسادلها، والصوم.
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.