Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
غیر مسلم کے دئیے ہوئے پھل، فروٹ یا روٹی وغیرہ کھانا
- Answered by
- ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4158-WAT
- Issued
- 30 صفر المظفر 1447ء / 25 اگست 2025
Question
غیر مسلم کے دئیے ہوئے پھل ، فروٹ یا روٹی وغیرہ کھانا دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) غیر مسلم روم پارٹنرز اگر کوئی چیز مثلاً پھل ، فروٹ یا روٹی دے تو اس کا کھانا کیسا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
غیر مسلم پھل ، فروٹ ، روٹی وغیرہ ایسی چیز دے جس میں گوشت کی آمیزش نہ ہو تو اس کے کھانے میں حرج نہیں، بشر طیکہ اس میں کوئی دوسری حرام یا نجس سے ملی ہوئی نہ ہو۔ تاہم ! یہ بات ذہن نشین رہے کہ غیر مسلموں کے ساتھ دوستی و محبت رکھنا اور بے تکلف ہو کر انہیں ہم نوالہ و ہم پیالہ بنانا ممنوع و ناجائز ہے اور حتی الامکان ان سے جدا رہنے کا مفتی محمد وقار الدین قادری رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات : 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں : اگر غیر مسلم کھانا وغیرہ فروخت کرتا ہے تو اس سے وہ چیز میں خرید کر کھانا جائز ہیں جن میں گوشت کی ملاوٹ نہ ہو، گوشت غیر مسلم کا پکایا ہوا مسلمان خرید کر بھی نہیں کھا سکتا، لہذا سب لوگ…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.