Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

کرایہ پر دئیے جانے والے سامان پر زکوٰۃ کا حکم

Fatwa no.
4157-WAT
Issued
30 صفر المظفر 1447ء / 25 اگست 2025. دار الافتاء اهلسنت

Question

کرایہ پر دئیے جانے والے سامان پر زکوۃ کا حکم دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ٹینٹ کا کام کرنے والوں کے پاس تمبو، قنات اور کیٹرنگ کا پورا سامان جو کرائے پر دینے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ تجارت کے لئے ، کیا ان کی زکاۃ ادا کرنا واجب ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

سوال میں بیان کیے گئے اموال پر شرعاً زکاۃ فرض نہیں ۔ البتہ ! اگر ان کے کرائے کی رقم خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کو پہنچ جائے اور ان اموال پر سال گزر جائے تو دیگر شرائط زکوۃ بھی پائی جانے کی صورت میں کرائے اور دیگر اموال زکوۃ پر زکوۃ فرض ہوگی اور اگر کرایہ خرچ ہو جاتا ہو، اتنا جمع نہیں ہو پاتا کہ وہ کرایہ خود یا دیگر اموال زکوۃ کے ساتھ مل کر نصاب کی مقدار تک پہنچے ، توزکوۃ لازم نہیں ہوگی ۔ مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ : زکواۃ صرف تین قسم کے اموال پر ہوتی ہے : (1) سونا، چاندی (اس کے ساتھ تمام ممالک کی کرنسی اور پرائز بانڈ بھی شامل ہیں) ۔ (2) چرائی کے جانور ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.