Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

عقیقہ میں جانور قربان کرنے کے بجائے کوئی اورچیز بانٹنا

Fatwa no.
4156-WAT

Question

عقیقہ میں جانور قربان کرنے کے بجائے کوئی اور چیز بانٹنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا عقیقہ میں جانور قربان کرنا ہی ضروری ہے یا کوئی اور چیز بھی بانٹ سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

ولادت کے شکرانے میں جانور ذبح کرنا عقیقہ کہلاتا ہے جو کہ مستحب (اچھا کام) ہے اگر کوئی نہ کرے تو گناہ گار نہیں لیکن عقیقہ میں قربانی کی مخصوص شرائط والا جانور ذبح کرنا ہی ضروری ہے ۔ جانور ذبح کرنے کے علاوہ کسی اور چیز کے بانٹنے سے عقیقہ نہیں ہوگا ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”ھی ذبح شاة في سابع الولادة ترجمہ : عقیقہ ولادت کے ساتویں دن بکری ذبح کرنا ہے ۔ (فتاوی عالمگیری ، جلد 5، صفحہ 362، دارالفکر، بیروت) صدر الشریعہ بدرالطریقہ مفتی محمد محمد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : بچہ پیدا ہونے کے شکریہ میں جو جانور ذبح کیا جاتا ہے اوس کو عقیقہ کہتے ہیں ۔ حنفیہ کے نزدیک عقیقہ مباح و مستحب ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.