Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
زکوۃ کے وکیل سے زکوۃ کی رقم گم ہوجانے کا حکم
Question
زکوۃ کے وکیل سے زکوۃ کی رقم گم ہو گئی تو اس کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) زید نے بکر کو زکوۃ کے پیسے دے کر کہا جہاں چاہو دے دینا لیکن بحر سے وہ پیسے گم ہو گئے یا گر گئے توکیا اب بحر کو اپنی طرف سے اتنی رقم زکاۃ دینی ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
اگر یہ رقم کا گم ہونا وکیل کی غفلت وغیرہ کی وجہ سے تھا مثلا جیب پھٹی ہوئی تھی، اس میں سے رقم گر سکتی تھی، اس نے اس میں رقم ڈالی اور وہ گر گئی یا حفاظت میں قصور واقع ہوا کہ جس طرح حفاظت کرنی چاہیے تھی اس طرح نہیں کی ، تو اس صورت میں وکیل پر اصل مالک کو تاوان ادا کر نالازم ہے ، اور مالک کی زکوۃ بھی ادا نہیں ہوئی، اس پر زکوۃ کی ادائیگی لازم ہے ۔ اور اگر تقصیر و تعدی نہ تھی تو تاوان ادا کرنا تو لازم نہیں لیکن پھر بھی وہ مالک کو بتائے گا کہ اس کی زکوۃ ادا نہ ہوئی تاکہ وہ اپنی زکوۃ ادا کر سکے ، کہ زکوۃ کی ادائیگی فقیر کو مالک کر دینے سے ہوتی ہے، فقط زکوۃ کی رقم علیحدہ کر دینے یا وکیل کو سپر دکر…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.