Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

پہلے شوہر سے ہونے والی بیٹی کا دوسرے شوہر کے بھائی سے نکاح کرنا

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4153-WAT
Issued
01 ربیع الاول 1447 هـ / 26 اگست 2025. دام الاحياء اهلسنت

Question

پہلے شوہر سے ہونے والی بیٹی کا دوسرے شوہر کے بھائی سے نکاح کا حکم دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) ایک خاتون کی پہلے شوہر سے بیٹی ہو پھر وہ دوسرے شوہر سے نکاح کرلے تو دوسرے شوہر کے بھائی سے اپنے پہلے شوہر والی بیٹی کا نکاح کرنا کیسا ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت کے مطابق اس خاتون کی پہلے شوہر سے ہونے والی بیٹی کا اس خاتون کے دوسرے شوہر کے بھائی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے جبکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ ہو، کہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں جن عورتوں سے نکاح کی حرمت بیان ہوئی ، یہ ان میں سے نہیں، لہذا یہ نکاح جائز ہے ۔ نیز فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ : "شوہر کی پہلی بیوی سے جواس کا بیٹا ہے ، وہ دوسری بیوی کی بہن سے نکاح کر سکتا ہے" پس اسی طرح عورت کی پہلی شوہر سے جو بیٹی ہے ، اس کا نکاح شوہر کے بھائی سے بھی کیا جاسکتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.