Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
مالک نصاب کا مال درمیانِ سال ختم ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفى عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4150-WAT
- Issued
- 28 صفر المظفر 1447ء 23 اگست 2025. دار الافتاء اهلسنت
Question
مالک نصاب کا مال در میان سال ختم ہو جائے تو کیا حکم ہے ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ زید سال کے ابتدا میں مالک نصاب ہے زکوۃ واجب ہو گئی پھر سال کے درمیان میں سارا مال ختم ہو گیا اور انتہائے سال میں زید دوبارہ مالک نصاب ہو گیا تو کیا دوران سال میں سارے مال کا ختم ہو ناز کوۃ کے واجب ہونے نہ ہونے میں کوئی ضرر رکھتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اگر در میان سال میں نصاب والا مال مکمل بلاک ہوگیا (مثلافا ہوگیا یا تجارتی مال تھا اور تجارت کی نیت ختم کردی و غیره) تو اس کے بعد جب دوبارہ یہ شخص صاحب نصاب ہو گا تو اس وقت سے اسلامی سال شمار کیا جائے گا ۔ لیکن اگر در میان سال سارا مال ہلاک نہ ہو، بلکہ اس میں سے کچھ نہ کچھ باقی ہو تو ایسی صورت میں اگر سال پورا ہونے سے قبل کسی بھی وقت پھر بقدر نصاب مال آگیا تو اس سارے مال پر زکوۃ لازم ہو جائے گی ۔ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے " (وشرط كمال النصاب في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد و في الانتهاء للوجوب(فلا يضر نقصانه بينهما) فلوهلك كله بطل الحول۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.