Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جماعت میں چار رکعتی نماز کی دو رکعتیں ملیں تو بقیہ نماز ادا کرنے کا طریقہ

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4147-WAT عالم الافيا اهلسنت

Question

جماعت میں چار رکعتی نماز کی دورکعتیں میں تو بقیہ نماز ادا کرنے کا طریقہ دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص چار رکعتی فرض (ظہر ، عشاء، عصر) میں دور کعتیں گزر جانے کے بعد ، تیسری رکعت میں جماعت کے ساتھ شریک ہوا، تو وہ اپنی بقیہ دور کعتیں ادا کرتے ہوئے قراءت کرے گا یا نہیں؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں مذکورہ شخص اپنی بقیہ دور کعتیں ادا کرتے ہوئے ، دونوں رکعتوں میں قراءت کرے گا یعنی سورہ فاتحہ بھی پڑھے گا اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت بھی ملائے گا کیونکہ یہ دور کعتیں قراءت کے حق میں پہلی اور دوسری رکعت قرار پائیں گی اور فرائض کی پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے ۔ در مختار میں ہے ”(والمسبوق من سبقه الامام بها أو ببعضها وهو منفرد) حتى يثنى ويتعوذ ويقرا۔۔۔ ویقضی اول صلاته في حق قراءة ترجمہ : مسبوق، جس پر امام تمام یا بعض رکعتوں میں سبقت لے گیا تو وہ منفرد ( کے حکم میں) ہے یہاں تک کہ وہ ثنا پڑھے گا، تعوذ پڑھے گا اور قراءت کرے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.