Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بغیر مہر مقرر کیے نکاح کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4144-WAT
- Issued
- 24 صفر المظفر 1447ء 19 اگست 2025
Question
بغیر مہر مقرر کیے نکاح کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر نکاح میں مہر معین نہ کیا توکیا نکاح درست ہو جائے گیا؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں ! اگر نکاح کے وقت مہر معین نہ کیا جائے تو نکاح شرعاً درست ہو جاتا ہے لیکن ایسی صورت میں عورت کو بعد میں مہر مثل دیا جائے گا۔ عورت کے خاندان کی اُس جیسی عورت کا جو مہر ہو ، وہ اُس کے لئے مہر مثل ہے ، مثلاً اس کی بہن ، پھوپھی ، چا کی بیٹی و غیر ہا کا مہر ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”وإن تزوجها ولم يسم لها مهرا أو تزوجها على أن لا مهرلهافلهامهرمثلها إن دخل بها أو مات عنها ترجمہ : اور اگر کسی عورت سے نکاح کیا لیکن اس کا مہر بیان نہیں کیا یا اس شرط پر نکاح کیا کہ اس کے لئے مہر نہیں ہو گا تو ( ان دونوں صورتوں ) میں اس کے لئے مہر مثل ہو گا اگر دخول کر لیا یا وہ مر گیا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.