Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے خلاف ترتیب قرآن پاک پڑھنے کا حکم

Fatwa no.
4142-WAT
Issued
24 صفر المظفر 1447ء / 19 اگست 2025 علم الافتاء اهلسنت

Question

مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے خلاف ترتیب قرآن پاک پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ جس کو یہ معلوم نہ ہو کہ خلاف ترتیب یعنی الہا قرآن پڑھنا منع ہے ، اگر اس نے نماز میں الٹا قرآن پڑھ لیا ، تو کیا وہ گنہگار ہوگا ؟ جواب

Answer (beginning)

جان بوجھ کر خلاف ترتیب یعنی الٹا قرآن پڑھنا ، مکروہ تحریمی ، ناجائز و گناہ ہے اور دار الاسلام میں جہالت (مسئلہ معلوم نہ ہونا ) عذر نہیں ہے ۔ البتہ ! اس صورت میں نماز میں کوئی خلل نہ آئے گا ، نماز ہو جائے گی، سجدہ سہو بھی لازم نہیں ہو گا کیونکہ قرآن کو ترتیب سے پڑھنا، تلاوت کا واجب ہے ، نماز کا واجب نہیں ہے ۔ نماز میں الٹا قرآن پڑھنے کے متعلق امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : " نماز ہو یا تلاوت بطریق معہود ہو دونوں میں لحاظ ترتیب واجب ہے اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا ۔ ۔ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.