Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

بازار سے لئے جانے والے نئے برتنوں کوپاک کرنا

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4140-WAT
Issued
24 صفر المظفر 1447ء / 19 اگست 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

بازار سے لئے جانے والے نئے بر تنوں کو پاک کرنا دارالافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ بازار سے جو سامان پینے کے استعمال کے لیے لیا جاتا ہے مثلاً : مٹی کے برتن ، کپ، گلاس ، جگ وغیرہ، کیا ان کو پاک کرنے کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری ہوتا ہے یا ایسے ہی دھونے سے پاک ہو جائیں گے ؟ جواب

Answer (beginning)

شرعی اصول یہ ہے کہ اشیا میں اصل طہارت ہے یعنی جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، اُس وقت تک وہ چیز پاک ہی سمجھی جائے گی، محض شک و شبہ کی وجہ سے کسی چیز کو نا پاک نہیں کہا جائے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ اگر بازار سے خریدے گئے برتن پر کوئی نجاست لگنا معلوم نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ برتن پاک شمار کئے جائیں گے ، انہیں پاک کرنا ضروری نہیں ہوگا۔ البتہ ! اگر معلوم ہو کہ برتن پر نجاست لگی ہے ، تو اس صورت میں اُسے پاک کرنا ضروری ہے لیکن پاک کرنے کے لیے کلمہ پڑھنا ضروری نہیں ہے ، فقط دھونے وغیرہ سے ہی پاک ہو جائے گا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.