Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

وزٹ کے لیے سعودیہ جانے والے عمرہ کریں تواحرام کہاں سے باندھیں؟

Answered by
مولانا محمد بلال عطاری مدنی
Fatwa no.
4137-WAT
Issued
25 صفر المظفر 1447هـ / 20 اگست 2025.

Question

وزٹ کے لیے سعودیہ جانے والے عمرہ کریں تو احرام کہاں سے باندھیں ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کوئی فیملی وزٹ کے لئے سعودی عرب میں آرہی ہو اور وہ جہاز میں صرف احرام کی نیت کر لیں لیکن احرام نہ پہنیں پھر وہ اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھ کر عمرہ کریں تو کیا عمرہ ہو جائے گا؟ جواب

Answer (beginning)

آفاقی ( یعنی میقات سے باہر کا رہنے والا شخص) جب مکہ مکرمہ یا حدود حرم میں کسی جگہ جانے کا ارادہ کرے ، اگر چہ وہ وزٹ یا کسی دوسرے کام کے لئے وہاں جا رہا ہو، تو اس کے لئے حج یا عمرہ میں سے کسی ایک کا احرام میقات سے باندھنا اور اس کی ادائیگی کرنا واجب ہوتا ہے۔ اور اگر اس کا حدود حرم میں جانے کا ارادہ نہ ہو، تو میقات سے بغیر احرام کے بھی گزر سکتا ہے ۔ اس تفصیل کے مطابق آنے والی فیملی کا ارادہ مکہ مکرمہ یا حدود حرم میں کہیں جانے کا ہو، تو ان کو میقات سے بغیر احرام کے گزر نا جائز نہیں ہوگا اور ایسی صورت میں صرف میقات سے نیت کر لینا کافی نہیں، بلکہ نیت کے ساتھ تلبیہ یعنی بیک وغیرہ کہنا بھی ضروری ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.