Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام تَطْہِیر رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد بلال عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4136-WAT
- Issued
- 25 صفر المظفر 1447ء / 20 اگست 2025 علم الافتاء اهلسنت
Question
بچی کا نام تظہیر رکھنا کیسا ہے ؟ جواب بچی کا نام تطہیر رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
" تطہیر " نام رکھنا جائز ہے ، اس کا لغوی معنی ہے : "پاک کرنا ۔ جب یہ کسی بچی کا نام رکھا جائے گا تو اس کا معنی ہوگا : پاک کرنے والی یا پاک کی ہوئی ۔ " یہ نام رکھنا شرعاً اگرچہ جائز ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات ، بیٹیوں ، صحابیات رضی اللہ عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی ۔ القاموس الوحید میں ہے ”طہ ہر الشيئ بالماء وغیرہ : پانی وغیرہ سے دھو کر صاف کرنا یا پاک کرنا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.