Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

مسافر امام کے مقیم مقتدی کے لئے آخری دو رکعتوں کے احکام

Question

مسافر امام کے مقیم مقتدی کے لئے آخری دور کعتوں کے احکام دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی) کیا مسافر امام کے مقیم مقتدی کے لیے آخری دور کعتوں میں قراءت نہ کرنا واجب ہے ؟ اور ان آخری دور کعتوں میں بھولے سے واجب چھوٹنے کی صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

مسافر امام کے پیچھے مقیم مقتدی کے لئے آخری دور کعتوں میں قراءت نہ کرنا واجب ہے کہ وہ قراءت کے معاملے میں ان رکعات میں لاحق کی طرح ہے اور لاحق حکما مقتدی اور مقتدی کو قراءت ممنوع ۔ اور اگر آخری دور کعتوں میں بھولے سے اس سے کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس پر سجدہ سہو لازم ہونے میں علما کا اختلاف ہے اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس پر سجدہ سہو لازم ہوگا کہ یہ صرف قراءت کے معاملے میں لاحق کی طرح ہے ۔ در مختار میں ہے " والمقيم خلف المسافر كالمسبوق، وقيل كاللاحق. "ترجمہ : اور مقیم ، مسافر کے پیچھے مسبوق کی طرح ہے اور کہا گیا ہے کہ لاحق کی طرح ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.