Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

شوہر نمازوں کی پابندی نہ کرتا ہو تو اس کا وبال کس پر ہوگا؟

Question

شوہر نمازوں کی پابندی نہ کرتا ہو تو اس کا وہال کس پر ہو گا ؟ دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی کا شوہر نمازوں کی پابندی نہ کرتا ہو اور اس کا اثر بچوں پر پڑ رہا ہو تو اس کو کیسے سمجھایا جائے اور اس کا وبال کس پر ہو گا ؟ جواب

Answer (beginning)

شوہر نماز نہ پڑھے تو اس کا وبال شوہر پر ہی ہو گا ، کہ روز قیامت ہر ایک جان پر اسی کے گناہوں کا بار ہو گا ، جو اس نے کئے ہیں اور کوئی جان کسی دوسرے کے عوض نہ پکڑی جائے گی ۔ البتہ ! بیوی کے لیے نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے رو کنے والے احکام ہوں گے یعنی اگر اسے غالب گمان ہے کہ میرے سمجھانے سے وہ نماز پڑھنا شروع کر دیں گے تواب سمجھانا واجب ہے ور نہ واجب نہیں، بلکہ اگر معلوم ہو کہ فتنہ وفساد پیدا ہوگا، آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی تو اس صورت میں اس حوالے سے بات نہ کرنا افضل ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.