Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام مہر النسا رکھنا
- Fatwa no.
- 4124-WAT
- Issued
- 18 صفر المظفر 1447ء / 13 اگست 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
بچی کا نام "مہر النسا" رکھنا کیسا؟ جواب بچی کا نام "مہر النسا " رکھنا دارالافتاءاهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
مہر النسا کا معنی عورتوں کی شفقت وغیرہ ہے ۔ اس معنی کے لحاظ سے بچی کا نام "مہر النسا " رکھنے میں حرج نہیں ہے ۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، صحابیات رضی اللہ تعالی عنھن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اچھے لوگوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے ، نیز امید ہے کہ اچھے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہوگی ۔ فیروز اللغات میں ہے "مہر : محبت ، حب ، دوستی، الفت، پیار، شفقت، ہمدردی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.