Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

ناپاک کپڑوں کو صابن، سرف سے دھونا

Answered by
مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
Fatwa no.
4122-WAT
Issued
20 صفر المظفر 1447ء 15 اگست 2025

Question

ناپاک کپڑوں کو صابن ، سرف سے دھونا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر حیض کا خون، پیشاب یا منی وغیرہ کپڑوں پر لگ جائے تو کیا کپڑوں کو پانی سے پاک کرلینا کافی ہوگا ؟ یا سرف وصابن لگانا ضروری ہے ؟ نیز پانی سے پاک کرنے کے بعد کیا ہم ان میں عبادت کر سکتے ہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

اگر اس کپڑے کو اچھے طریقے سے دھو کر نجاست اور اس کا اثر ( رنگ و بو) زائل کر دیا تو وہ کپڑا پاک ہو گیا ، اور اگر اس کپڑے میں نجاست کا اثر رنگ یا بو) ایسا ہے کہ جس کو دور کرنا دشوار ہو تو اسے دور کرنے کی ضرورت نہیں ، جب شرعی طریقہ کار کے مطابق کپڑا دھولیا ، وہ پاک ہو گیا، اور اب صابن و سرف سے دھونے کی بھی حاجت نہیں ، اور جب کپڑا پاک ہو جائے تو اسے پہن کر عبادت کی جاسکتی ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے ”و مسألة النجاسة انما امرنا فيها بالتطهير بالماء وما يشق زواله عفو و العفولا يتكلف ۔۔۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.