Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
حالت نفاس میں شوہر نے طلاق دی تو عدت کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4114-WAT
- Issued
- 16 صفر المظفر 1447ء / 11 اگست 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
حالت نفاس میں شوہر نے طلاق دی تو عدت کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک عورت کے بچہ پیدا ہوا ، ابھی وہ چلے میں ہے ، بچے کے پیدا ہونے کے دس دن بعد شوہر نے بیوی کو طلاق دے دی، تو اب بیوی کے لیے عدت کا کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
پوچھی گئی صورت میں اس عورت کو جب سے شوہر نے طلاق دی ، اُسی وقت سے ہی اس کی عدت شروع ہو گئی ۔ اور اس کی عدت بھی تین ماہواریاں (حیض) ہی ہیں، یعنی جب نفاس ( پیدائش کے بعد آنے والا خون) ختم ہوگا ، اس کے بعد پاکی کے دن آئیں گے اور پھر یکے بعد دیگرے تین ماہواریاں ختم ہوں گی، تو اس عورت کی عدت مکمل ہوگی۔ نوٹ : نفاس کی حالت میں طلاق دینے سے اگر چہ طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لیکن جس طرح ماہواری کی حالت میں طلاق دینا ناجائز و گناہ ہے ، اسی طرح نفاس کی حالت میں بھی طلاق دینا ناجائز و گناہ ہے ، لہذا اس سے تو بہ کرنا شوہر پر لازم ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.