Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جھوٹ بول کر دوسرے ملک میں شہریت حاصل کرنا

Answered by
مولانا ذاکر حسین عطاری مدنی
Fatwa no.
4112-WAT عالم الافيا اهلسنت

Question

جھوٹ بول کر دوسرے ملک میں شہریت حاصل کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) جب کوئی شخص کسی دوسرے ملک سے اٹلی جاتا ہے، تو اسے پیپر ملنے سے پہلے ، حکومت کی طرف سے اس سے ایک انٹر ویولیا جاتا ہے ، جس میں وہ اپنے ملک سے اٹلی آنے کی وجہ پوچھتے ہیں، تو اکثر ایسا ہو کہ لوگ اپنی طرف سے کہا نیاں بناتے ہیں کہ میری یہ مجبوری تھی، فلاں مجبوری تھی، جس کی بنا پر وہ پیپر دیتے ہیں، اور اگر کوئی اپنی طرف سے کہانی گڑھ کر نہ بنائے تو اس کو پیپر نہیں دیتے، حکومتی بندے کہتے ہیں کہ تم مجبور نہیں تھے ، لہذا تمہیں پیپر نہیں دئیے جائیں گے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اپنی طرف سے جھوٹی کہانی بنا کر آگے پیش کر کے اس کی بیس پر پیپر لینے کا کیا حکم ہے ، جبکہ اس کے علاوہ کوئی اور راہ نہ ہو؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں اپنی طرف سے جھوٹی کہانی بنا کر پیپر حاصل کرنا، جھوٹ و دھوکہ دہی کی وجہ سے ناجائز و حرام ہے ، لہذا جھوٹی کہانی کی بیس پر پیپر حاصل کرنا، ناجائز و حرام ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے که رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”اياكم والكذب، فان الكذب يهدي الى الفجور، وان الفجور يهدي إلى النار “ترجمہ : تم جھوٹ سے بچو، کیوں کہ جھوٹ فجور ( یعنی حق بات سے انحراف) کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.