Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

فکس ڈیپازٹ میں رقم جمع کروا کر اضافہ لینے کا حکم

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4110-WAT
Issued
13 صفر المظفر 1447ء / 08 اگست 2025

Question

فکس ڈیپازٹ میں رقم جمع کروا کر اضافہ لینے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ فکس ڈیپازٹ میں پیسہ رکھا جاتا ہے ، پھر اس پر کچھ سالوں کے بعد اضافہ ملتا ہے وہ اضافہ ہمارے لئے جائز ہے یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

مسلمانوں کے بینک یا جس میں کسی مسلمان کا شیئر ہو ، اس میں فکس ڈیپازٹ کے طور پر رقم رکھوانا، جائز نہیں ہے اور اس طور پر رقم رکھوانے کی صورت میں جو اضافہ ملتا ہے ، وہ حقیقتاً سود ہے ، کیوں کہ فکس ڈیپازٹ میں جمع کروائی گئی رقم کی حیثیت قرض کی ہوتی ہے کہ اصل مال محفوظ رہتا ہے اور اس پر مشروط فکس نفع ملتا ہے یعنی گویا بنیک والے یہ معاہدہ کرتے ہیں کہ : آپ ہمیں اتنے روپے بطور قرض دو، آپ کی اصل رقم محفوظ رہے گی ، جو اتنی مدت بعد آپ کو مل جائے گی اور ہم اس پر اتنی مدت کے بعد آپ کو اتنا نفع دیں گے ۔ " اور قرض پر حاصل ہونے والا مشروط نفع سود ہوتا ہے ، جس کا لینا ، دینا ، نا جائز وگناہ ہوتا ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.