Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
نجاست کی وجہ سے آنکھ کے اندرونی حصے کو دھونے کا حکم
- Answered by
- مولانا اعظم عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4108-WAT
- Issued
- 13 صفر المظفر 1447 / 08 اگست 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
نجاست کی وجہ سے آنکھ کے اندرونی حصے کو دھونے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) دکھتی آنکھ سے پانی نکلے تو آنکھ کے اندرونی حصے کو دھونا ہوگا یا نہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
دکھتی آنکھ سے مرض کی وجہ سے نکلنے والا آنسو نا پاک ہے ، جس سے وضو ٹوٹ جائے گا لیکن آنکھ کے اندرونی حصے کو اس کی وجہ سے دھونے کا حکم نہیں ہو گا کیوں کہ آنکھوں کے ڈھیلیے بدن کا باطن والا حصہ شمار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں دھونے کا حکم نہیں ہے ۔ فتاوی رضویہ میں ہے " نکھوں کے ڈھیلیے بھی شرعاً باطن بدن میں داخل ہیں ، ولہذا وضو و غسل کسی میں یہاں تک کہ حقیقی نجاست سے بھی اُن کے دھونے کا حکم نہ ہوا ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.