Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے 30 روزے رکھنے کا حکم

Answered by
مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
Fatwa no.
4107-WAT
Issued
13 صفر المظفر 1447 / 08 اگست 2025. DaruliftaAhlesunnat

Question

رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے 30 روزے رکھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینے کے پورے 30 روزے رکھ سکتے ہیں؟ جواب

Answer (beginning)

رمضان المبارک کے علاوہ ، شوال اور ذوالحج کو چھوڑ کر کسی بھی مہینے کے پورے 30 روزے رکھ سکتے ہیں ، البتہ روزے رکھنے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن نہ رکھے ۔ اور اس میں یہ چیز دیکھ لی جائے کہ یوں روزے رکھنے میں اتنی کمزوری نہ ہو جائے کہ دیگر فرائض و واجبات یا معاملات خراب ہونا شروع ہو جائیں ، ان چیزوں کو بھی مد نظر رکھتے ہوئے اہتمام کرنا چاہئے ۔ شوال اور ذوالحج کے پورے 30 روزے نہیں رکھ سکتے کہ ان مہینوں میں ممنوع ایام بھی آتے ہیں جن میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے ، یعنی عید الفطر ، عید الاضحی اور ذوالج کی گیارہ ، بارہ اور تیرہ تاریخ ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.