Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
28 دن کے عمرہ پیکج پر جانے والے کی نماز کے متعلق تفصیل
- Fatwa no.
- 4105-WAT
- Issued
- 12 صفر المظفر 1447 - 071 اگست 2025. دار الافتا اهلسنت
Question
28 دن کے عمرہ پیکج پر جانے والے کی نماز کے متعلق تفصیل دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) 28 دن کے عمرہ پیکج پر جانے والے مسافر نماز پوری پڑھیں گے یا قصر کریں گے ؟ جواب
Answer (beginning)
عمرے کے پینج میں مکہ اور مدینہ شریف دونوں جگہ قیام ہوتا ہے اور کوئی شخص شرعی مسافت طے کر کے عمرے پر جائے تو اگر وہ کسی بھی شہر میں مسلسل پندرہ دن قیام کی نیت کرلے (یعنی نیت کرتے وقت ان پندرہ دنوں میں کسی رات دووسری جگہ گزارنے کا ارادہ نہ ہو) تو وہاں مقیم ہو جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا، ورنہ مقیم نہیں ہوگا بلکہ مسافر رہے گا تو قصر پڑھے گا ۔ مثلا اٹھائیس دن کے پینج میں پہلے مکہ شریف میں دس دن گزارنے ہوں اور اس کے بعد مدینہ شریف میں دس دن گزارنے ہوں اور پھر دوبارہ بقیہ آٹھ دن مکہ شریف میں ہوں ، تو چونکہ ایسی صورت میں کسی بھی جگہ مسلسل پندرہ دن کی اقامت نہیں ہے تو وہ قصر نماز ہی پڑھے گا۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.