Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
امام آخری رکعت میں تشہد پڑھ کر کھڑا ہوگیا اور فوراً واپس آکر بغیر سجدہ سہو سلام پھیرا تو نماز کا حکم
Question
دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر امام نے مغرب کی نماز پڑھاتے وقت تیسری رکعت مکمل کر کے تشہد پڑھ لیا، اس کے بعد پھر سے سیدھے کھڑے ہو گئے اور فوراً یاد آنے یا لقمہ ملنے پر دوبارہ بیٹھ گئے اور بغیر سجدہ سہو کیسے سلام پھیر دیا، کیا ایسا کرنا درست تھا اور نماز ہو گئی یا بیٹھنے کے بعد اولاً دوبارہ تشہد پڑھتے اس کے بعد سجدہ سہو کر کے پھر سے تشہد پڑھتے اور سلام پھیر تے تو صحیح تھا ؟ اس حوالے سے شرعی رہنمائی فرمائیں ۔ جواب .
Answer (beginning)
صورت مسئلہ میں قعدہ اخیرہ کے بعد بھولے سے سیدھے کھڑے ہو جانے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہوتا ہے کہ جب تک اگلی رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو، نمازی پر واجب ہے کہ لوٹ آئے اور تشہد کا اعادہ کیے بغیر ایک طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرے اور اس کے بعد دوبارہ التحیات وغیرہ پڑھ کر نماز مکمل کرلے ۔ اس صورت میں سجدہ سہو اس لئے لازم ہے کہ اس نے سلام میں تاخیر کی ہے جو کہ نماز کے واجبات میں سے ایک واجب ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.