Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وطن اصلی میں سے گزر کر گھر جائے بغیر آگے مسافت شرعی سے کم سفر کیا تو قصر کا حکم
- Fatwa no.
- 4101-WAT
Question
وطن اصلی میں سے گزر کر گھر جائے بغیر آگے مسافت شرعی سے کم سفر کیا تو قصر کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ سائل نے وطن اقامت سے وطن اصلی کی طرف سفر کیا لیکن جیسے ہی وہ اپنے شہر میں داخل ہوا اس نے آگے سفر کیا ، اپنے گھر نہیں گیا ۔ جس جگہ سفر کیا وہ گھر سے یعنی وطن اصلی سے شرعی سفر نہیں بنتا، جہاں سائل نے سفر کیا اپنے شہر سے آگے وہاں پوری نماز پڑھے گا یا قصر ؟ رہنمائی فرما دیں ۔ جواب
Answer (beginning)
جب کوئی شخص سفر کرتے ہوئے اپنے شہر کی آبادی میں داخل ہو گیا، تو اب وہ مقیم ہو گیا ، اگرچہ گھر نہیں گیا۔ سفر کے تمام احکام ختم ہو گئے ، کیوں کہ پورا شہر حکما ایک ہی جگہ شمار کیا جاتا ہے ۔ اب اگر وہ یہاں سے کسی اور جگہ جاتا ہے جو شرعی مسافت پر نہیں تو وہ مقیم ہی ہے ۔ پوری نماز ادا کرے گا ۔ فتاوی ہندیہ میں ہے " واذا دخل المسافر مصره اتم الصلاة وان لم ينو الاقامة فيه سواء دخله بنية الاجتياز اودخله لقضاء الحاجة “ ترجمہ : جب مسافر اپنے وطن اصلی میں داخل ہو جائے تو وہ پوری نماز پڑھے گا ، اگر چہ اس کی اقامت کی نیت نہ ہو، خواہ وہ گزرنے کی نیت سے داخل ہوا ہو یا کسی کام کی وجہ سے اپنے شہر میں داخل ہوا…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.