Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بیٹی کا نام "عشرہ" رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد نور المصطفی عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4100-WAT
- Issued
- 11 صفر المظفر 1447ء / 06 اگست 2025
Question
کیا بیٹی کا نام "عشرہ " رکھ سکتے ہیں ؟ جواب بیٹی کا نام عشرہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی)
Answer (beginning)
لفظ " عشرہ (عین کے زبر کے ساتھ) کا معنی ہے : " دس یا مہینے کے دس دن ۔ لہذا نام کے لیے یہ کوئی موزوں نہیں ہے ، حدیث پاک میں اچھے نام رکھنے کا حکم ارشاد ہوا ہے ، اور اسی طرح اچھوں کے نام پر نام رکھنے کا حکم ارشاد ہوا ہے لہذا بیٹی کا نام امہات المومنین ، صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھنا چاہئے ، امید ہے کہ نیکوں کے نام پر نام رکھنے سے بچی کو ان کی برکات حاصل ہوں گی ۔ فیروز اللغات میں ہے "عشرہ : دس ۔ مہینے کے دس روز ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.