Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
جس کپڑے کے پاک یا ناپاک ہونے کے بارے میں علم نہ ہو، اس میں نماز پڑھنے کا حکم
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4099-WAT
- Issued
- 11 صفر المظفر 1447ء / 06 اگست 2025 علم الافتاء اهلسنت
Question
جس کپڑے کے پاک یا ناپاک ہونے کے بارے میں علم نہ ہو، اس میں نماز پڑھنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر کسی نے ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کے پاک و نا پاک ہونے کے بارے میں معلوم نہ ہو یعنی یہ معلوم نہ ہو کہ وہ کپڑا پاک ہے یا نا پاک ، تو کیا ایسی صورت میں نماز ہو جائے گی ؟ جواب
Answer (beginning)
شرعی اصول یہ ہے کہ اشیا میں اصل طہارت ہے یعنی جب تک کسی چیز کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو، اُس وقت تک وہ چیز پاک ہی شمار کی جائے گی، محض شک و شبہ کی وجہ سے کسی چیز کو ناپاک نہیں کہا جائے گا۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں حکم یہ ہے کہ جس کپڑے میں نماز پڑھی ہے، اگر اس کپڑے کے ناپاک ہونے کا علم نہ ہو، تو ایسی صورت میں وہ کپڑے پاک شمار کئے جائیں گے اور اُن کپڑوں میں پڑھی گئی نماز، درست ہوگی ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.