Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
پانی والی ٹینکی سے چوہے کو زندہ نکال لیا گیا تو پانی کا حکم
Question
پانی والی ٹینکی سے چوہے کو زندہ نکال لیا گیا تو پانی کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) زیر زمین پانی کی ٹینکی میں اگر چوہا گر جائے اور اسے زندہ نکال لیا جائے ، تو اس پانی سے وضو و غسل کرنے کا کیا حکم ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
عام طور پر گھروں کی زیر زمین یا اوپر بنی ٹینکی چھوٹی ہی ہوتی ہے یعنی وہ وہ درده ( یعنی کل پیمائش دو سو پچیس اسکوائر فٹ) سے کم ہی ہوتی ہیں ۔ اس حوالے سے حکم یہ ہے کہ فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق سور کے علاوہ کوئی اور جانور کنویں وغیرہ سے زندہ نکل آیا جبکہ اس کے جسم پر نجاست کا لگنا یقینی طور پر معلوم نہ ہو اور نہ ہی اس کا منہ پانی میں پڑا ہو تو اس کا پانی پاک رہے گا ۔ ہاں ! اگر اس جانور کا منہ پانی میں پڑ جائے تو اب جو حکم اس کے جھوٹے اور لعاب کا ہے وہی حکم اُس پانی کا ہوگا ۔ جہاں تک چوہے کا معاملہ ہے تو چوہے کا جھوٹا شر عا مکروہ ہوتا ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.