Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

قرض کی واپسی پر زیادہ لوٹانا

Answered by
مولانا محمد فراز عطاری مدنی
Fatwa no.
4096-WAT
Issued
10 صفر المظفر 1447ء / 05 اگست 2025.

Question

قرض میں بغیر شرط کے واپسی پر زیادہ لوٹانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ اکثر گھروں میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا آٹا یا کوئی اور چیز ختم ہو جائے تو وہ ساتھ والے گھر سے لے آتے ہیں اور ساتھ یہ بول آتے ہیں کہ جب ہمارے پاس یہ چیز آجائے گی تو ہم آپ کو واپس کر دیں گے ۔ جب ہماری چیز آگئی تو اب ذہن میں یہ آیا کہ انہوں نے ہماری مدد کی تھی، لہذا جو بھی لیا مثلا آٹا تو زیادہ ہی دے آتے ہیں، تو کیا یہ سود ہوگا یا نہیں ؟ جواب

Answer (beginning)

قوانین شرعیہ کی رو سے قرض واپس کرتے وقت مقروض اگر قرض سے زیادہ لوٹائے اور یہ زیادہ دینا عقد میں صراحت یا دلالت کسی طرح شرط نہ ہو، بلکہ مقروض بغیر کسی شرط کے صرف اپنی خوشی سے زیادہ دے ، تو شرعاً یہ سود نہیں اور اس کا لینا، جائز و حلال ہے اور دینا ، نہ صرف جائز ہے بلکہ اچھے اخلاق میں سے ہے ۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر معاملہ اسی طرح ہے کہ پہلے سے طے نہیں ہوتا کہ واپسی زیادہ کی جائے گی، تو آپ کا اپنی خوشی سے کچھ زیادہ دینا اور لینے والے کا لینا جائز ہے ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.