Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
آفاقی کا بغیر احرام کے حرم جانا
- Answered by
- مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4094-WAT
- Issued
- 09 صفر المظفر 1447 / 104 اگست 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
آفاقی کا بغیر احرام کے حرم جانا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) عمرے کا مسئلہ پوچھنا تھا کہ پاکستان سے مکہ شریف جائیں، تو ہوٹل میں ریسٹ کرنے کے بعد مسجد عائشہ سے احرام باندھ کر عمرہ کر سکتے ہیں ؟ جواب
Answer (beginning)
آفاقی یعنی میقات سے باہر رہنے والے شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے قصد سے احرام کے بغیر میقات سے گزرے ، چاہے اس کا حج و عمرہ کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ لہذا آپ کے لئے بغیر احرام ہوٹل میں آرام کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانا، جائز نہیں ہے ، آپ پر لازم ہے کہ میقات میں داخل ہونے سے پہلے عمرے کا احرام باندھ لیں اور جب مکہ مکرمہ حاضری ہو تو بہتر یہ ہے کہ حتی الامکان جلد از جلد طواف کیا جائے ، ہاں! کوئی عذر ہو تو بقدر ضرورت تاخیر کی جا سکتی ہے ۔ ہدایہ میں ہے " والمواقیت التي لا يجوزان يجاوزها الانسان الامحرما۔۔۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.