Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

سنتوں کی ایک رکعت میں سورت نہیں ملائی اور سجدہ میں یاد آیا

Answered by
مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
Fatwa no.
4092-WAT
Issued
09 صفر المظفر 1447 - 1041 اگست 2025

Question

سنتوں کی ایک رکعت میں سورت نہیں ملائی اور سجدہ میں یاد آیا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) سنت غیر مؤکدہ میں تیسری رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد بھولے سے سورت نہیں پڑھی اور تیسری رکعت کے سجدہ میں یاد آیا اور آخر میں سجدہ سہو کر لیا، تو کیا نماز ہو جائے گی ؟ جواب

Answer (beginning)

پوچھی گئی صورت میں نماز ہو گئی ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ فرضوں کی تیسری اور چوتھی رکعت کے سوا باقی تمام نمازوں کی ہر رکعت میں سورت فاتحہ کے بعد سورت ملانا یا قرآن پاک کی ایک بڑی آیت جو تین چھوٹی آیتوں کے برابر ہویا تین چھوٹی آیتیں ملانا واجب ہے ، اور اگر ان میں سے کچھ بھی نہ ملایا اور بھول کر رکوع کر لیا اور اس کے بعد سجدہ بھی کیا اور سجدہ میں جا کر یاد آیا کہ سورت وغیرہ نہیں ملائی تھی تو ایسی صورت میں سجدہ سہو کرنا کافی ہوتا ہے ۔ فتاوی عالمگیری میں ہے ”و تجب قراءة الفاتحة وضم السورة أو ما يقوم مقامها من ثلاث آيات قصار أو آية طويلة في الأوليين بعد الفاتحة.

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.