Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

اوابین کی نماز کی نیت

Question

اوابین کی نماز کی نیست دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اوا بین کی نماز میں نیت کیا کی جائے گی ؟ براہ کرم رہنمائی فرما دیں ۔ جواب

Answer (beginning)

یہ بات یادر ہے کہ نیت دل کے پختہ ارادے کو کہتے ہیں ، لہذا دل میں نیت ہو تو خواہ الفاظ نہ کہے نماز ہو جائے گی ۔ البتہ زبان سے کلمات دہر الینا مستحب ہے ۔ اور اصح یہ ہے کہ نفل و سنت و تراویح میں مطلق نماز کی نیت کافی ہے ، مگر احتیاط یہ ہے کہ تراویح میں تراویح ، سنت وقت یا قیام اللیل کی نیت کرے اور باقی سنتوں میں سنت یا نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی متابعت کی نیت کرے ۔ لہذا اوابین کی نماز بھی چونکہ نفلی ہے اس لئے مطلق نماز کی نیت کافی ہے ، لیکن ثواب بڑھانے کے لئے حسب حال جتنی اچھی نیتیں بڑھالے اتنا اچھا ہے ۔ محیط برہانی میں ہے ”هل يستحب أن يتكلم بلسانه؟

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.