Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
اندازے سے حدیث کی شرح بیان کرنا
- Answered by
- مولانا محمد سعید عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4079-WAT
- Issued
- 04 صفر المظفر 1447ھ / 30 جولائی 2025. كام الافيا الهات
Question
اندازے سے حدیث کی شرح بیان کرنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اپنے اندازے سے، اپنی اٹکل سے حدیث کی شرح کرنا کیا گناہ ہے ؟ مع حوالہ ارشاد فرما دیں؟ جواب
Answer (beginning)
اپنی طرف سے ، بغیر علم کے ، محض اپنے اندازے سے حدیث کی شرح کرنا سخت گناہ ہے ۔ سیدی امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں : پس اگر شخص مذکور فی السوال خواہ بذات خود خواہ بفیض صحبت علماء کا ملین علم کافی رکھتا ہے جو بیان کرتا ہے غالبا صحیح ہوتا ہے اس کی خطا سے اس کا صواب زیادہ ہے تو حرج نہیں اور اگر دونوں وجوہ علم سے عاری ہے صرف بطور خودار دو فارسی کتابیں دیکھ کر مسائل بتائے اور قرآن وحدیث کا مطلب بیان کرنے پر جرات کرتا ہے تو یہ سخت اشد کبیرہ ہے اور اس کے فتوسی پر عمل جائز نہیں اور نہ اس کا بیان حدیث و قرآن سننے کی اجازت ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.