Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

حالت احرام میں فوت ہونے والے کا سر اور چہرہ چھپانے کا حکم

Question

حالت احرام میں فوت ہونے والے کا سر اور چہرہ چھپانے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا حالت احرام میں فوت ہونے والے کا سر نہیں ڈھانپا جائے گا ؟ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک حدیث مبارکہ بھی وائرل ہو رہی ہے ۔ اصل مسئلہ کیا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

فقہائے احناف کے نزدیک ہر مسلمان میت کا چہرہ اور سر ڈھانپ کر ہی اسے کفن دیا جائے گا ، اس معاملے میں احرام و غیر احرام میں فوت ہونے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ شروع اسلام میں تمام مردوں (خواہ وہ غیر حالت احرام میں فوت ہوئے ہوں) کے چہرے کھلے رکھے جاتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح ارشاد فرما دیا کہ : خمر وا وجوه موتاكم، ولا تشبهوا باليهود" ترجمہ : اپنے مردوں کے چہروں کو ڈھانپ دو اور یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.