Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
وضو و غسل میں انگلیوں کے خلال کا حکم
Question
وضو و غسل میں انگلیوں کے خلال کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا وضو اور غسل میں انگلیوں کا خلال کرنا واجب ہے ؟ اگر نہیں تو کیا حکم ہوگا ؟ جواب
Answer (beginning)
وضو اور غسل میں خلال کرنا فی نفسہ فرض یا واجب نہیں بلکہ سنت ہے ، لیکن اگر خلال کیے بغیر انگلیوں کے درمیان والی جگہوں میں پانی نہ پہنچا ہو تو خلال کر کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کے درمیان والی جگہ تک پانی پہنچا نا فرض و ضروری ہے ، کیوں کہ وضو میں دونوں ہاتھ کہنیوں تک اور دونوں پاؤوں ٹخنوں تک دھونا اور غسل میں پورے جسم کے ظاہری حصہ پر پانی بہانا فرض ہے ، اور اس میں انگلیوں کے درمیان والی جگہ بھی داخل ہے ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.