Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

والدین کی زندگی میں فوت ہونے والی اولاد کا وراثت میں حصہ نہیں

Answered by
مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
Fatwa no.
4065-WAT
Issued
02 صفر المظفر 1447ء 28 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

والدین کی زندگی میں فوت ہونے والی اولاد کا وراثت میں حصہ نہیں دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) اگر غیر شادی شدہ بیٹی یا بیٹا، والدین کی زندگی میں وفات پا جائے تو کیا اس کا والدین کی جائیداد میں حصہ یا حق بنتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

غیر شادی شدہ بیٹی یا بیٹا ہو یا شادی شدہ ، جو والدین کی زندگی میں وفات پا جائے ، والدین کے ترکہ میں اس کا حصہ نہیں ہوتا کہ والد یا والدہ کے ترکہ میں وہی اولادوارث بنتی ہے ، جو ان کے انتقال کے وقت زندہ ہو، لہذا ان کی زندگی میں انتقال کر جانے والے کا حصہ نہیں بنے گا ۔ وراثت کی شرائط بیان کرتے ہوئے رد المحتار میں فرمایا : ” و وجود وارثه عند موته حيا حقيقة او تقديرا“ یعنی : مورث کی وفات کے وقت وارث کا حقیقہ یا تقدیر ازندہ موجود ہونا ۔

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.