Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
گناہ گار غیر فاسق معلن کے پیچھے نماز کا حکم
- Fatwa no.
- 4063-WAT
- Issued
- 02 صفر المظفر 1447ھ / 28 جولائی 2025ء
Question
گناہ گار غیر فاسق معلن کے پیچھے نماز کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک مرتبہ مسجد میں امام نہ ہونے کے سبب ایک شخص کو امامت کے لئے آگے کیا گیا ، وہ شخص بظاہر فاسق نہیں تھا، لیکن وہ گناہ گار ضرور تھا اور یہ بات صرف وہ خود ہی جانتا تھا ، کسی دوسرے کے علم میں نہیں تھی اور نہ ہی اس نے ظاہر کی کیونکہ گناہ کا اظہار بھی گناہ ہے ، اس شخص نے نماز پڑھا دی ، اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ نماز ہوگئی یا دوبارہ پڑھنی ہوگی؟ اس حوالے شرعی رہنمائی فرمائیں ۔ جواب
Answer (beginning)
صورت مسئولہ میں اگر وہ شخص کسی کبیرہ گناہ کا خفیہ طور پر مرتکب ہو یا صغیرہ پر خفیہ طور پر اصرار کیا تو ایسی صورت میں وہ فاسق غیر معلن ہوا، اور فاسق غیر معلن ( یعنی وہ جو گناہ چھپ کر کرتا ہو، گناہ میں معروف و مشہور نہ ہو) کے پیچھے نماز مکروہ تنزیہی ( یعنی خلاف اولیٰ) ہے ۔ لہذا اگر اس وقت اس شخص میں امامت کی شرائط موجود تھیں اور اس نے نماز کو اس کی شرائط و ضروریات کے مطابق درست پڑھا یا تو وہ نماز درست ہو گئی البتہ ! مکروہ تنزیہی ہوئی۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.