Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)

جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھولیا اس کی بہن سے نکاح کا حکم

Answered by
مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
Fatwa no.
4062-WAT
Issued
30 محرم الحرام 1447ء 26 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)

Question

جس عورت کو شہوت کے ساتھ چھولیا اس کی بہن سے نکاح کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی عورت کو شہوت سے مس کیا (چھولیا ) تو کیا اس کی بہن سے نکاح کرنا حرام ہوجاتا ہے ؟ جواب

Answer (beginning)

کسی عورت کو شہوت کے ساتھ چھونے یا بوسہ لینے یا زنا کرنے سے اس عورت کی بہن سے نکاح کرنا حرام نہیں ہوتا، کیونکہ کسی عورت کو شہوت سے چھونے یا بوسہ لینے یا زنا کرنے سے اس عورت کے ساتھ حرمت مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے اور حرمت مصاہرت کی وجہ سے اس عورت کے اصول (ماں ، نانی، پڑنانی وغیرہ) و فروع (بیٹی، پوتی، نواسی وغیرہ) اس مرد پر حرام ہو جاتے ہیں جبکہ عورت کی بہن ، نہ عورت کے اصول میں سے ہے اور نہ فروع میں سے ، اسی لیے فقہائے کرام نے فرمایا ہے کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے اس کی بہن سے زنا کیا تو اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوگی ، لہذا اگر کوئی اور حرمت کی وجہ نہ ہو تو ایسی عورت کی بہن سے…

This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.

This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.