Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
بچی کا نام صفیہ رکھنا
- Answered by
- مولانا محمد سجاد عطاری مدنی
- Fatwa no.
- 4061-WAT
- Issued
- 30 محرم الحرام 1447 ھ / 26 جولائی 2025. Dar-ul-IftaAhlesunnat (Dawat-e-Islami)
Question
بچی کا نام صفیہ رکھنا دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) میرا سوال ہے بچی کا نام "صفیہ " رکھنا کیسا اور کیا اس سے برکت حاصل ہوگی ؟ جواب
Answer (beginning)
جی ہاں !صفیہ نام رکھنا بالکل جائز بلکہ مستحب ہے اور متبرک بھی ہے کیونکہ یہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالی عنہا کا نام ہے ، اللہ تعالی کی رحمت سے امید ہے کہ ان کی برکت بچی کے شامل حال ہوگی ۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ میں ہے ”صفية بن حبی۔۔۔ فاعتقها وتزوجها “ ترجمہ : حضرت صفیہ بن حی رضی اللہ عنہا کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آزاد کیا اور ان سے نکاح فرمایا ۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابة، جلد 8 ، صفحہ 210 ، دار الكتب العلميه بیروت) مراۃ المناجیح میں ہے حضرت صفیہ بنت حیی ابن اخطب ان کے والد یہودی تھے ، خیبر کے باشندے بنی اسرائیل تھے ، حضرت ہارون کی اولاد سے ، آپ جنگ خیبر میں گرفتار ہو کر آئیں حضور…
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.