Darulifta Ahlesunnat (Dawat-e-Islami)
طلاق یافتہ ممانی سے نکاح کر نے کا حکم
- Fatwa no.
- 4060-WAT
- Issued
- 30 محرم الحرام 1447 ھ / 26 جولائی 2025. DaruliftaAhlesunnat
Question
طلاق یافتہ ممانی سے نکاح کرنے کا حکم دار الافتاء اهلسنت (دعوت اسلامی) کیا ماموں کی زندگی میں بھانجا اپنے ماموں کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کر سکتا ہے ؟ جواب
Answer (beginning)
بھانجے کا اپنے ماموں کی طلاق یافتہ بیوی سے نکاح کرنا جائز ہے ، جبکہ طلاق کی عدت ختم ہو چکی ہو اور حرمت کی کوئی اور وجہ مثلاً رضاعت و مصاہرت وغیرہ بھی نہ پائی جا رہی ہو۔ اللہ پاک نے محرمات کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : (وَ أُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذُلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ) ترجمہ کنز الایمان : ان کے سواجو ر ہیں وہ تمہیں حلال ہیں کہ اپنے مالوں کے عوض تلاش کرو ۔ (القرآن ، پاره 05، سورۃ النساء، آیت : (24 فتاوی امجدیہ میں ہے ماموں کے مرنے یا طلاق دینے اور عدت گزرنے کے بعد ممانی سے نکاح کرنا جائز ہے کہ یہ محارم کی قسم میں داخل نہیں ۔
This is only the beginning of the answer. Read the complete fatwa, with all its references, on the Darul Ifta Ahle Sunnat website.
This page shows a published source as it is. For your own situation, ask a qualified mufti.